انسانی خون کی قسمیں اور کینسر کا خطرہ

 انسانی خون کی قسمیں اور کینسر کا خطرہ: 



کیا آپ کا خون گروپ آپ کی صحت کا راز چھپا پوا ہے؟

​جدید طبی سائنس نے جہاں بیماریوں کے علاج میں بڑا پیش رفت  ہے، وہاں تشخیص کے ایسے حیران کن طریقے بھی اجاگر کیے ہیں جو عام انسان کی سوچ سے باہر ہیں۔ حالیہ برسوں میں صحت کے ماہرین نے انسانی خون کی اقسام اور جان لیوا امراض،  کینسر کے درمیان ایک گہرا تعلق کے بارے میں بتایا  ہے۔

 2019 میں میڈیکل شعبے کے معتبر جریدے BMC Cancer میں شائع ہونے والی ایک  تحقیق نے اس بحث کو نئی رخ دی ہے جس کے مطابق بلڈ گروپ صرف ایک شناختی علامت نہیں بلکہ ہماری جینیاتی ساخت کا وہ چیز ہے جو مستقبل میں پیدا ہونے والے خطرات کے  بتا سکتا ہے۔

​بلڈ گروپ کا جین سے تعلق

​انسانی جسم میں موجود اینٹی جنز (Antigens) اور اینٹی باڈیز کا نظام نہ صرف مدافعت فراہم کرتا ہے بلکہ یہ مخصوص بیماریوں کے شناخت بھی کرتا ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن افراد کا بلڈ گروپ A اور AB ہوتا ہے وہ افراد زیادہ معدے کے کینسر کے شکار ہوتے ہیں

​معدے کا کینسر خاموش قاتل ہے

ایک خاموش قاتل ​معدے کا کینسر اس وقت شروع ہوتا ہے جب کہ معدے اندرون دیوروں میں موجود موکوسا غیر معمولی طور پر تقسیم ہونا شروع ہوجات ہے۔ پہلے اس بیماری کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلتا ہے بعد میں یہ اپنا اثر دیکھانا شروع کرتا ہے اس لیے اس کو خاموش قاتل کہا گیا ہے۔

​بلڈ گروپس کے درمیان خطرات کا تقابل:

​بلڈ گروپ A:

 اعداد و شمار کے مطابق   اس A کے لوگوں میں کینسر کا خدشہ بلڈ گروپ O کے مقابلے میں 13 سے 19 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

​بلڈ گروپ AB:

 اس گروپ میں شامل  افراد میں کینسر پیدا ہونے کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک پایا گیا ہے۔

​بلڈ گروپ O اور B:

اس گروپ کے افراد میں معدے کا کینسر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور بہت ہی کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔

 اور بلڈ گروپ کا گہرا تعلق۔ H-Pylori'

​سائنسدانوں نے بتایا کہ جن افراد میں بلڈ A  گروپ ہوتا ہے جینیاتی ساخت ہیلی کوبیکٹر پائلوری (Helicobacter pylori) نامی بیکٹیریا کے لیے زیادہ اہم ہوتی ہے۔

 یہ بیکٹیریا معدے میں السر پیدا کرتا ہے جو علاج نہ ہونے کی صورت میں کینسر کی شکل جنم لیتا ہے۔ 

تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ اگر کسی شخص کو یہ السر نہ بھی ہو، تب بھی بلڈ گروپ 'A' کی وجہ سے کینسر کا ایک "فطری خطرہ"  موجود رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق درج ذیل عوامل اس آگ کو مزید ہوا دیتے ہیں:

​غذائی عادات: 

*زیادہ نمک ,ڈبہ بند خوراک تلی ہوۓ اشیا معدے کو زیادہ نقصان دیتا ہے۔

* سگریٹ کا دھواں معدے کے خلیات میں ڈی این اے کی تبدیلی  کا سبب بنتا ہے۔

​*جسمانی وزن میں اضافہ نہ صرف معدے بلکہ جسم کے کئی حصوں میں سوزش پیدا کر کے کینسر کا راستہ اختیار  کرتا ہے۔

*ایشیا، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکہ کے باشندوں میں جینیاتی اور ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر اس کینسر کی شرح پایا جاتا  ہے۔

* ایک اندازے مطابق مردوں میں کینسر کی تشخیص خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

​احتیاطی تدابیر اور ماہرین کا مشورہ

ماہرینِ صحت درج ذیل تجاویز دیتے ہیں:

(1). اپنی روزمرہ خوراک میں سبز پتوں والی سبزیاں اور پھلوں کا استعمال یقینی بنائیں۔

(​2) . سگریٹ نوشی اور تمباکو کے ہر قسم کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں۔

(​3). اگر آپ کا بلڈ گروپ 'A' یا 'AB' ہے، تو معدے کی معمولی تکلیف (جیسے بدہضمی یا جلن) کو نظر انداز نہ کریں اور ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔

(4) .روزانہ کم از کم 30 منٹ کی پیدل چلنے یا ورزش کی عادت اپنائیں۔

​خلاصہ

آپ کا بلڈ گروپ آپ کو کینسر ہونے کی "یقین دہانی" نہیں کراتا، بلکہ یہ صرف ایک "وارننگ سگنل" آپ کو اپنے غزا کو ٹھیک کرنا چاہیے 

مکمل ورزش کرنا چاہیے۔

اگر آپ گروپ A اور AB ہے تو زیادہ محتاط رہنا چاہیے ۔

بیماریوں سے بچنے کے طریقے دھونا چاہیے۔

آخر میں آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کا گروپ کونسا ہے اور آپ کے کبھی معدے کی جلن اور درد ہوگیا ہے۔۔ ۔

سورس:

یہ خبر سوشل میڈیا اور مختلف آرٹیکل میں شائع کیا گیا تھا اس کے بعد  تحقیق کرکے پوسٹ کیا ہے۔

نوٹ:

یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کسی بھی  علاج کے لیے مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


Comments

Popular posts from this blog

پاک بھارت ٹاکرا خطرے میں؟ پاکستان کا بائیکاٹ کا بڑا فیصلہ!

Today Gold Price in Pakistan – سونا 5 لاکھ سے اوپر

دولت سے خوشی خریدیں جاسکتی؟ ایلون مسلک کا تازہ بیان